خدا کے پاک لوگوں کو خدا سے نصرت آتی ہےجب آتی ہے تو پھر عالَم کو اک عالَم دکھاتی ہےوہ بنتی ہے ہوا اور ہر خَسِ رہ کو اڑاتی ہےوہ ہو جاتی ہے آگ اور
خدا کی رضا ہے نظامِ وصیتبشر کی بقا ہے نظامِ وصیت جو جنت کی راہوں پہ لے کر چلے ہےوہی رہنما ہے نظامِ وصیت یہ خود احتسابی پہ مائل کرے ہےکہ اک آئینہ ہے نظام
(نوٹ از ایڈیٹر:۔ موصوفہ نے یہ کلام، اداریہ بعنوان ’’والدین سے حسن سلوک‘‘ مطبوعہ 28 اکتوبر سے متاثر ہو کرکہا) دعا دیتے ہیں لب اور لوریاں لہجہ سناتا ہےمری ماں کے تکلم میں فرشتہ گنگناتا
عجیب لوگ ہیں یہ بدعتوں پہ چلتے ہیںبھلا کے نسبتیں، کن نسبتوں پہ چلتے ہیں نہیں ہے ان کا تعلق کسی بھی مسلک سےیہ لوگ دیں پہ نہیں، اُجرتوں پہ چلتے ہیں انہی کے واسطے
’’مل کر بھی جب دل نہ ملیں تو لمبی چوڑی باتیں کیوں‘‘جب ہم رنگ ہے خون تو اتنی اہم ہوئی ہیں ذاتیں کیوں دن ان کی یادوں میں گزرے، حسن کا جلوہ آنکھوں میںخواب میں
زعم میں ان کے مسیحائی کا دعویٰ میراافترا ہے جسے از خود ہی بنایا ہم نے کافر و ملحد و دجّال ہمیں کہتے ہیںنام کیا کیا غمِ ملّت میں رکھایا ہم نے گالیاں سن کے
پھر فلک ہے مہرباں، دیکھیے نہ دیکھیےوجد میں ہے یہ جہاں، دیکھیے نہ دیکھیے منزلوں کے درمیاں فاصلے سمٹ گئےوقت ہے رواں دواں، دیکھیے نہ دیکھیے اک نیا جنوں لیے قبلۂ نگاہ میںہر امنگ ہے
حضورِ قلب دے مجھ کو، مجھے یوں معتبر کر دےکھڑا ہوں دھوپ میں ، اپنی رضا میرا شجر کر دےترے محبوب کی ، تیری محبت چا ہتا ہوں میںجو تیر ی یاد میں نم ہو،
تِری التجاؤں میں شدت نہیں ہےیا عرشِ بریں سے اجابت نہیں ہےگناہوں سے دل پر جو تالے لگے ہیںاسی واسطے اِس میں رقت نہیں ہےیُوں ڈر کر بلاؤں سے مایوس ہونایہ منعم علیہم کی سنت
جو سورج چاند تاروں میں بسی ہےترے چہرے کی ذاتی روشنی ہےمیں نازاں ہوں کہ میں خیر الامم ہوں،محمد مصطفےٰ میرا نبی ہےتری خاطر بنے ہیں آسماں سبتری خاطر ہی یہ دنیا سجی ہےتری رحمت