• 1 نومبر, 2026
  1. Home
  2. نظم

Category: نظم

ہے شانِ لطیفی بھی تم میں اور شانِ بلالی بھی تم میں

ہے شانِ لطیفی بھی تم میں اور شانِ بلالی بھی تم میں

افریقہ کا نور ہو تم اور افریقہ کی شان ہو تماے میرے پیارو سچ ہے یہ سب احمدیوں کی جان ہو تم ہے شانِ لطیفی بھی تم میں اور شانِ بلالی بھی تم میںاصحابِ بدر

برکینا فاسو کے شہداء کو خراجِ عقیدت

برکینا فاسو کے شہداء کو خراجِ عقیدت

عزمِ وفا کو دہرایا شیروں اور دلیروں نےایمانوں کو گرمایا شیروں اور دلیروں نےحق کا نعرہ لگوایا شیروں اور دلیروں نےعشق کا پرچم لہرایا شیروں اور دلیروں نےجوشِ جنوں کو سلگایا شیروں اور دلیروں نےغیرتِ

کہکشاں بن کے فلک پر یہ ہوئے ہیں روشن

کہکشاں بن کے فلک پر یہ ہوئے ہیں روشن

’’آرہے ہیں میری بگڑی کے بنانے والے‘‘بڑھ رہے ہیں جو ستم میں یہ زمانے والے بن گئے دین فلک پہ یہ ستارے روشنحق کی آواز پہ سر اپنا کٹانے والے راہ مولا پہ ہیں قربان

خادم ترے اہلِ زمیں تُو عبدِ شاہِ آسماں

خادم ترے اہلِ زمیں تُو عبدِ شاہِ آسماں

ہیں تیرے آگے دم بخود کیا معترض کیا نکتہ چیںاے نکتہ جُو اے نکتہ ور اے نکتہ داں اے نکتہ بیں ہے ماہِ کامل ضَوفشاں تجھ سے فقط، تیرا رہیںاے ماہ رُخ اے مہ لقا

رس گھولتے ہیں کان میں الفاظ آپ کے

رس گھولتے ہیں کان میں الفاظ آپ کے

گھر گھر میں نور آئے اتر، عام بات ہے؟پڑ جائے اس کی ہم پہ نظر، عام بات ہے؟ رس گھولتے ہیں کان میں الفاظ آپ کےرکھتے ہیں روح تک یہ اثر، عام بات ہے؟ آتے

برکینا فاسو کے شہداء کے نام

برکینا فاسو کے شہداء کے نام

خبر ہم کو آئی ہے دل سوز آجکہ افریقہ میں اب تک ہے ظلمت کا راج دیکھو! افریقہ روشن ہوا نور سےجو نکلا شہیدوں کے دل سے ہے آج مرے بھائیو! تم تھے گھر میں

اللہ نگہباں رہے الفضل تمہارا

اللہ نگہباں رہے الفضل تمہارا

عرفان کی محفل کو سجائے سدا رکھےایمان کی مَشعل کو جلائے سدا رکھے ہر لفظ لگے اس کا ستارہ سابیاں میںالفضل نگینے یوں سمائے سدا رکھے ہر روح مہکتی رہے اس بادِصبا میںیہ مشکِ محمدؐ

فراقِ یار میں شب بھر بہائے تُو نے جو آنسو

فراقِ یار میں شب بھر بہائے تُو نے جو آنسو

کبھی تنہائی میں یہ سوچ کر آنکھیں اگر نم ہوںہے کتنا مہرباں رحماں خُدا، تو دور سب غم ہوں ہیں نظّارے،اشارہ کر رہے اس کی طرف پھر بھیپہنچ پائیں جو اس کی ذات تک وہ

’’تیری برکتوں کا یہ سال ہو‘‘

’’تیری برکتوں کا یہ سال ہو‘‘

ہوں دُور جگ سے وبائیں سب، بھری محفلوں کا یہ سال ہومِٹیں نفرتیں، بڑھیں الفتیں، دلی چاہتوں کا یہ سال ہو ہوں تِرے کرم کی یاں بارشیں نہ کہیں بھی رنج و ملال ہوتیرے فضل

محاسنِ قرآن کریم

محاسنِ قرآن کریم

محاسنِ قرآن کریم(کلام حضرت مسیح موعودؑ) سچ ہے یہی کہ ایسے مذاہب ہی مرگئےاَب اُن میں کچھ نہیں ہے کہ جاں سے گزر گئے پابند ایسے دینوں کے دنیا پرست ہیںغافل ہیں ذوقِ یار سے