کیوں نہ ہو ناز خد و خال پہ اپنے اس کواپنے ہاتھوں سے بنایا ہے خدا نے اس کو کاش! میری بھی کبھی یاد اُسے آ جائےنیند سے سپنے جگائیں جو سہانے اس کو اُس
جن کو ملتا ہے خلافت کا مقامچاہتے ہیں دل سے وہ سب کا بھلا خوابِ غفلت سے جگاتے ہیں ہمیںاپنی تقریروں سے ہم کو وہ سدا ---***--- ہمیں بخشی ہے مولیٰ نے خلافت آسمانی بھیدکھائی
ہمیں تقوی کی چادر اوڑھ کر ہے گامزن رہنا(حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ کے خطاببر موقع جلسہ سالانہ بھارت 2022ء سے متاٴثر ہو کر) ہمیں تقوی کی چادر اوڑھ کر ہے گامزن رہناخدا کے
اک سانحہ، بُرکینا کی دھرتی پہ ہوا ہےدِل آج تلک غم میں گرفتارِ بَلا ہے انساں میں نہیں باقی کچھ خوف خدا کاوحشت میں شیطان سےکچھ اور سوا ہے مسجد میں وہ آئے تھے عبادت
قلم کی نوک پر اقرار کے ہیںارادے جرأتِ اظہار کے ہیں اندھیرے میں اجالے یار کے ہیںزباں پر تذکرے شہکار کے ہیں کسوٹی پر وہی معیار کے ہیںملے تمغے جنہیں کردار کے ہیں کرم سے
یہ محبتوں کے نصیب تھےکبھی دور تھے جو، قریب تھے وہ جو کربلا کو سجا گئےوہ نمازی کیسے عجیب تھے یہ تری نگاہ کا لطف تھاکہ یہ لوگ تیرے حبیب تھے اے شہیدو! تم پہ
اوہام نے کیا رشک ایقان پر تمہارےہے آسماں بھی حیراں ایمان پر تمہارے اک شور سا اُٹھا ہے محشر کا آسماں پرجب سے بدن گرے ہیں میدان پر، تمہارے تم نے سبق دیا ہے ہم
جان کا کر کے سودا چلے باخداسوئے جنت براہِ رضا و وفا جان دے کر رہِ حق میں بتلا گئےجاں سے بڑھ کر ہے ایمان کا راستہ ہے یہ باطل گماں موت آئی تمہیںنام زندہ
کیجیے بُرکینا فاسو کے شہیدوں کو سلامراہِ حق کے ان سجیلے شہسواروں کو سلام دیں کی خاطر مسکرا کر شان سے قرباں ہوئےحوصلے اور استقامت کے مناروں کو سلام یاد کابل کے شہیدوں کی ہے
بد ارادہ سے یہ مسجد میں گھسے ظالم یزیدکردیئے نو احمدی برکینا فاسو کے شہید وہ بلالی روح سے جانیں فدا کرتے رہےصدق کا پرچم نہ چھوڑا ہو گئے سارے شہید رنگ لائے گا شہیدوں