(نظم جو برمقام کوہ ڈلہوزی کہی گئی تھی) دل یہ کہتا ہے اس در پہ رما دے دھونی نفس کہتا ہے کہ اٹھ مفت میں ہلکان نہ ہو زندگی ہیچ ہے انسان کی دنیا میں
اللہ کی تائید ہو اللہ کی اماں ہو افضال کی بارش ہو مرا آقا جہاں ہو آقا مرے انمول ہیں اور نادرو نایاب اے قادر و قیوم تو ہر پل نگراں ہو وہ نور ہے
اے خدا مجھ کو تودنیا میں مزا آتا نہیں اس جہاں کا کوئی بھی منظرمجھے بھاتا نہیں کفرمنزل اوج کی طے کر رہا ہے رات دن تجھ سے اسلام کیوں آگے بڑھا جاتا نہیں گرمسلمانوں
’’ان کو شکوہ ہے کہ ہجر مىں کىوں تڑپاىا سارى رات جن کى خاطر رات لُٹا دى چىن نہ پاىا سارى رات‘‘ (ىہ شعر حضرت خلىفۃ المسىح الرابعؒ کا ہے) ………………………………………………………………………… اُس سے شکوہ کون
مہک چمن کے پھول کی، مدح کرے رسولؐ کی نبیؐ کے حرفِ نام سے ہے ہر کلی میں تازگی ہے عندلیب کی نوا، صلِ علیٰ نبیِنا اور اِلتجائے یاسمن، صلی علیٰ محمدِِ نبیؐ کے نور
الٰہی بشر سے بشر دُو بدو ہے نہ جانے وہ کیوں اس قدر جنگجو ہے نگہ تو ہی کر ہم پہ رحم و کرم کی کہ بندوں پہ رحم و کرم تیری خو ہے نہیں
آج دل مسرور ہے اپنا، طبیعت شاد ہے مسجد لندن کی رکھی جا چکی بنیاد ہے ہے بِناء اس کی خدا کے فضل پر اور رحم پر جو بناء اس کے مقابل پر ہے وہ
دنیا میں حاکموں کو حکومت پہ ناز ہے جو ہیں شریف ان کو شرافت پہ ناز ہے عابد کو اپنے زہدوعبادت پہ ناز ہے اور عالموں کو علم کی دولت پہ ناز ہے حُسنِ رقم
اے کہ تُو ہے مُنعِم آلائے من مَیں تِرا بندہ ہوں اے آقائے مَن لُطف کُن بر من طُفیلِ آنکہ بُود سیّدِ مَن، شیخِ مَن، مرزائے مَن ہوں سَقِیمُ الحال اور مَعذُور، گو اے طبیبِ
16؍مئی 1902 کو بمقام گورداسپور مولوی نظیر حسین صاحب سخا دہلوی نے بذریعہ عریضہ حضرت مسیحِ موعودؑ سے نماز میں حصولِ حضور کا طریق دریافت فرمایا ۔ آپ نے اسکا طریق یہ بیان فرمایا کہ