• 3 نومبر, 2026
تری محبت میں میرے پیارے ہرا ک مصیبت اٹھائیں گے ہم

تری محبت میں میرے پیارے ہرا ک مصیبت اٹھائیں گے ہم

تری محبت میں میرے پیارے ہرا ک مصیبت اٹھائیں گے ہم مگر نہ چھوڑیں گے تجھ کو ہر گز نہ تیرے در پر سے جائیں گے ہم تری محبت کے جرم میں ہاں جو پیس

لارَیب خلافت سے عبادت ہے عبادت

لارَیب خلافت سے عبادت ہے عبادت

ہوتے نہیں دل سرخوشِ صہبائے محبت پیتے نہ اگر جامِ مئے حسنِ خلافت مژدہ دلِ افسردہ! کہ تا روزِ قیامت ہے صحّتِ ایمان و عمل کی یہ ضمانت ورنہ تو یہ تربت سدا آمادہ بہ

انقطاع الیٰ اللہ

انقطاع الیٰ اللہ

سر پر کھڑی ہے موت ذرا ہوشیار ہو ایسا نہ ہو کہ توبہ سے پہلے شکار ہو زندہ خدا سے دل کو لگا اے عزیزِ من کیا اُس سے فائدہ جو فنا کا شکار ہو

صدائے بشیر

صدائے بشیر

اپنا غمخوار مجھ کو جان اے دوست میرا کہنا کبھی تو مان اے دوست درد دل سے کہوں گا جو میں کہوں لغو اس کو کبھی نہ جان اے دوست ورلی دنیا سے مت لگا

تم اصل ہو یا خواب ہو تم کون ہو

تم اصل ہو یا خواب ہو تم کون ہو

تم اصل ہو یا خواب ہو تم کون ہو تم مہر ہو مہتاب ہو تم کون ہو جو آنکھ بھی دیکھے تمہیں سرسبز ہو تم اس قدر شاداب ہو تم کون ہو تم لب بہ

آؤ توبہ کریں

آؤ توبہ کریں

میری خوابوں کی اُجلی سنہری زمیں ہنستے پھولوں کی خوشبو سے مہکی ہوئی امن اور پیار کے رس میں ڈوبی ہوئی یہ زمیں تو خداداد انعام تھی اس میں کیوں آگ اور خوں کی ہولی

ساغرِ حسن تو پُر ہے کوئی مَے خوار بھی ہو

ساغرِ حسن تو پُر ہے کوئی مَے خوار بھی ہو

ساغرِ حسن تو پُر ہے کوئی مَے خوار بھی ہو ہے وہ بے پردہ کوئی طالبِ دیدار بھی ہو وصل کا لطف تبھی ہے کہ رہیں ہوش بجا دل بھی قبضہ میں رہے پہلو میں

بہت ہو چکی اے زمانے کے مالک، بس اب اپنے لطف و کرم کی نظر کر

بہت ہو چکی اے زمانے کے مالک، بس اب اپنے لطف و کرم کی نظر کر

بہت ہو چکی اے زمانے کے مالک، بس اب اپنے لطف و کرم کی نظر کر ترے عرش کو جو ہلا دے الٰہی، دعاؤں میں اب تُو وہ پیدا اثر کر ہمیں اپنی رحمت کے

معجزہ قادیاں کر دیا

معجزہ قادیاں کر دیا

بے نشاں کو نشاں کر دیا سارے جگ پر عیاں کر دیا جو تھی گمنام بستی اسے مرجعِ کل جہاں کر دیا مانگتے تھے کوئی معجزہ معجزہ قادیاں کر دیا لوگ سمجھے خدا اب نہ

کہیں پہ اُترا مسیح الزمان کہتے ہیں

کہیں پہ اُترا مسیح الزمان کہتے ہیں

ہوا ہے پھر سے خُدا مہربان کہتے ہیں کہیں پہ اُترا مسیح الزمان کہتے ہیں تھے آسمان پہ مُدّت سے ڈھونڈتے جس کو بڑھائی اُس نے زمیں کی ہے شان کہتے ہیں بنے تھے رہنما