جس کا ہر لمحہ خدا کے ذکر سے معمور ہے وہ خدا کا پیارا بندہ حضرتِ مسرورہے جس کا دست ِناز ہی اب مشعلِ ایماں بنا جوبھی اس سے دور ہے ایمان سے بے نور
اے خامۂ تقدیر ذرا کام دکھا دے’’دیوانوں کی فہرست میں اک نام بڑھا دے‘‘ گر عرش کا تارہ ہوں سجا مجھ کو فلک پر گر ذرۂ خاکی ہوں تہہِ خاک سُلا دے ویسے تو شہادت
واقف ہے میرے حال سے، سب باخبر ہے وہ دل کی مرے پاتال تک رکھتا نظر ہے وہ دستک جو دے رہا ہے مرے دل پہ بار بار اِنِّی قریب کہہ کے مرا منتظر ہے
دیتی ہے قدسیہ عیدمبارک الحمدللہ کہہ کر زیرِ لب ہو دعا،درود،خدا کا نام ہے اس عید پر (نصرت قدسیہ وسیم۔فرانس)
اللہ کی نوبت بجے دنیا کو صدادے زجاجِ خلافت سے تو ظلمات کو مٹادے لے آئے ہیں ثریا سے ایماں جو زمیں پر وارث ان آخرین کا خدا ہم کو بنا دے مانگے یہ دعا
آقا ہمارا تُو حوصلہ ہے تُو ہی ہمارے ہر غم کی دوا ہے تجھی سے ملتی ہے دل کو قوّت تیری دعا ہماری روح کی غذا ہے شفقت تیری یاد آ رہی ہے درد تیرا
جس کا ہر لمحہ خدا کے ذکر سے معمور ہے وہ خدا کا پیارا بندہ حضرتِ مسرورہے جس کا دست ِناز ہی اب مشعلِ ایماں بنا جوبھی اس سے دور ہے ایمان سے بے نور
خدائے ذوالجلال تو زمین کو پھر سے حکم کر وہ ہر بلا کو نگل لے اور آسمان کو اذن دے وہ رحمتیں بکھیر دے اور آندھیوں کو بھیج کر اڑا دے خاک ظلم کی سمیٹ
اے نالۂ خاموش خدا تجھ کو جزا دے افلاک سے بڑھ کر عرشِ معلیٰ کو ہلا دے اےچشمِ ستم دیدہ وہ طوفان بپا کر جو دیدۂ سفاک کو بھی خون رُلا دے اے دل تو
چہرے پہ شفق سی پھوٹی ہے آنکھوں میں خوشی لہرائی ہے پیارے امام کی صحت کی ندا آئی ہے خوش ہوجاؤ مستانوں نسیم سحر یہ خبر لائی ہے پیارے خلیفہ کی مسکراتی شبیہ میرے خواب