• 3 نومبر, 2026
  1. Home
  2. نظم

Category: نظم

حضرت مسرور

حضرت مسرور

جس کا ہر لمحہ خدا کے ذکر سے معمور ہے وہ خدا کا پیارا بندہ حضرتِ مسرورہے جس کا دست ِناز ہی اب مشعلِ ایماں بنا جوبھی اس سے دور ہے ایمان سے بے نور

’’دیوانوں کی فہرست میں اِک نام بڑھادے‘‘

’’دیوانوں کی فہرست میں اِک نام بڑھادے‘‘

اے خامۂ تقدیر ذرا کام دکھا دے’’دیوانوں کی فہرست میں اک نام بڑھا دے‘‘ گر عرش کا تارہ ہوں سجا مجھ کو فلک پر گر ذرۂ خاکی ہوں تہہِ خاک سُلا دے ویسے تو شہادت

اِنِّی قریب کہہ کے مرا منتظر ہے وہ

اِنِّی قریب کہہ کے مرا منتظر ہے وہ

واقف ہے میرے حال سے، سب باخبر ہے وہ دل کی مرے پاتال تک رکھتا نظر ہے وہ دستک جو دے رہا ہے مرے دل پہ بار بار اِنِّی قریب کہہ کے مرا منتظر ہے

عید

عید

دیتی ہے قدسیہ عیدمبارک الحمدللہ کہہ کر زیرِ لب ہو دعا،درود،خدا کا نام ہے اس عید پر (نصرت قدسیہ وسیم۔فرانس)

’’دیوانوں کی فہرست میں اِک نام بڑھا دے‘‘

’’دیوانوں کی فہرست میں اِک نام بڑھا دے‘‘

اللہ کی نوبت بجے دنیا کو صدادے زجاجِ خلافت سے تو ظلمات کو مٹادے لے آئے ہیں ثریا سے ایماں جو زمیں پر وارث ان آخرین کا خدا ہم کو بنا دے مانگے یہ دعا

سایہ رہےسروں پر

سایہ رہےسروں پر

آقا ہمارا تُو حوصلہ ہے تُو ہی ہمارے ہر غم کی دوا ہے تجھی سے ملتی ہے دل کو قوّت تیری دعا ہماری روح کی غذا ہے شفقت تیری یاد آ رہی ہے درد تیرا

حضرت مسرور

حضرت مسرور

جس کا ہر لمحہ خدا کے ذکر سے معمور ہے وہ خدا کا پیارا بندہ حضرتِ مسرورہے جس کا دست ِناز ہی اب مشعلِ ایماں بنا جوبھی اس سے دور ہے ایمان سے بے نور

آزاد نظم

آزاد نظم

خدائے ذوالجلال تو زمین کو پھر سے حکم کر وہ ہر بلا کو نگل لے اور آسمان کو اذن دے وہ رحمتیں بکھیر دے اور آندھیوں کو بھیج کر اڑا دے خاک ظلم کی سمیٹ

دیوانوں کی فہرست میں اِک نام بڑھادے

دیوانوں کی فہرست میں اِک نام بڑھادے

اے نالۂ خاموش خدا تجھ کو جزا دے افلاک سے بڑھ کر عرشِ معلیٰ کو ہلا دے اےچشمِ ستم دیدہ وہ طوفان بپا کر جو دیدۂ سفاک کو بھی خون رُلا دے اے دل تو

صحت کی ندا آئی ہے

صحت کی ندا آئی ہے

چہرے پہ شفق سی پھوٹی ہے آنکھوں میں خوشی لہرائی ہے پیارے امام کی صحت کی ندا آئی ہے خوش ہوجاؤ مستانوں نسیم سحر یہ خبر لائی ہے پیارے خلیفہ کی مسکراتی شبیہ میرے خواب