• 3 نومبر, 2026
دعوت فکر

دعوت فکر

یارو خودی سے باز بھی آؤ گے یا نہیں؟ خوُ اپنی پاک صاف بناؤ گے یا نہیں؟ باطل سے میل دل کی ہٹاؤ گے یا نہیں؟ حق کی طرف رجوع بھی لاؤ گے یا نہیں؟

حکم رسول پاک محمد ﷺ بابت کلمہ گو

حکم رسول پاک محمد ﷺ بابت کلمہ گو

حواقعہ مشہور ہے یہ اک جہادیٔ جنگ کا اک صحابی قتل اک کافر کو جب کرنے لگا کلمۂ توحيد أس کافر نے فوراً پڑھ لیا پر مجاہد نے یہ سمجھا موت سے وہ ڈر گیا

چمٹے رہو خلافتِ حَقّہ کے ساتھ تم

چمٹے رہو خلافتِ حَقّہ کے ساتھ تم

خطبہ جمعہ ہے یا کوئی رنگِ جمال ہے یا آسمانی پیڑ کے پھولوں کی ڈال ہے موتی چمکتے اِس میں ہیں حکمت کے باخُدا ہر لفظ لفظ اِس کا سمندر مِثال ہے اِک وجد اِک

اے خدا! مجھ کو عطا کر وہ دل بریانِ عشق

اے خدا! مجھ کو عطا کر وہ دل بریانِ عشق

کوئی بھی اچھا نہیں لگتا سماں اس دہر میں جب نہ ہو چہرہ تیرہ جلوہ کناں اس دہر میں اے خدا ! مجھ کو عطا کر وہ دل بریانِ عشق جس سے ہوں پیدا نئے

بخش دے

بخش دے

ایک ادنیٰ سا اشارہ اس زمیں پر کیا ہوا غم کے سائے ہر طرف انساں پریشان ہر طرف جو خدا بن کر خدائی کر رہا تھا چار سُو دیکھتا ہے اب وہی ہو ہو کے

اس کے خطبے کی چاشنی دے دے

اس کے خطبے کی چاشنی دے دے

مىرے مولا مرى دعا سن لے سارى خلقت کو ىہ خوشى دے دے وہ دعاؤں کا جو خزانہ ہے اس کو صحت ابھى ابھى دے دے اس کا چہرہ جو چاند چہرہ ہے اس کى

کاش کہ مجھ کو ملے ایسی زباں اس دہر میں

کاش کہ مجھ کو ملے ایسی زباں اس دہر میں

کوئی بھی اچھا نہیں لگتا سماں اس دہر میں جب نہ ہو چہرہ تیرا جلوه کناں اس دہر میں اے خدا مجھ کو عطا کر وه دل بریان عشق جس سے ہوں پیدا نئے لاکھوں

پیار سے ہو جائیں جو شیر و شکر

پیار سے ہو جائیں جو شیر و شکر

ملک میں مزدور جیسا دربدر کوئی نہیں جس نے سب کے گھر بنائے اس کا گھر کوئی نہیں اک تمہیں چاہا تھا میں نے تم تو رخصت ہوگئے اب تمہارے بعد تم سا ہم سفر

کرونا نے سارے جہاں کو ہلایا

کرونا نے سارے جہاں کو ہلایا

کرونا نے سارے جہاں کو ہلایا جو سوئے ہوئے تھے انہیں بھی جگایا بھولے ہوئے تھے جو اپنے خدا کو انہیں بھی ہے اپنا خدا یاد آیا دعاؤں سے صدقہ سے اور نیکیوں سے ہر

بھلا پھر بھی میں کافر ہوں

بھلا پھر بھی میں کافر ہوں

خدا میرا سہارا ہے بھلا پھر بھی میں کافر ہوں محمد میرا آقا ہے بھلا پھر بھی میں کافر ہوں مرا ختم نبوت پہ بڑا واضح عقیدہ ہے وہ سب نبیوں سے اعلیٰ ہے، بھلا