یارو خودی سے باز بھی آؤ گے یا نہیں؟ خوُ اپنی پاک صاف بناؤ گے یا نہیں؟ باطل سے میل دل کی ہٹاؤ گے یا نہیں؟ حق کی طرف رجوع بھی لاؤ گے یا نہیں؟
حواقعہ مشہور ہے یہ اک جہادیٔ جنگ کا اک صحابی قتل اک کافر کو جب کرنے لگا کلمۂ توحيد أس کافر نے فوراً پڑھ لیا پر مجاہد نے یہ سمجھا موت سے وہ ڈر گیا
خطبہ جمعہ ہے یا کوئی رنگِ جمال ہے یا آسمانی پیڑ کے پھولوں کی ڈال ہے موتی چمکتے اِس میں ہیں حکمت کے باخُدا ہر لفظ لفظ اِس کا سمندر مِثال ہے اِک وجد اِک
کوئی بھی اچھا نہیں لگتا سماں اس دہر میں جب نہ ہو چہرہ تیرہ جلوہ کناں اس دہر میں اے خدا ! مجھ کو عطا کر وہ دل بریانِ عشق جس سے ہوں پیدا نئے
ایک ادنیٰ سا اشارہ اس زمیں پر کیا ہوا غم کے سائے ہر طرف انساں پریشان ہر طرف جو خدا بن کر خدائی کر رہا تھا چار سُو دیکھتا ہے اب وہی ہو ہو کے
مىرے مولا مرى دعا سن لے سارى خلقت کو ىہ خوشى دے دے وہ دعاؤں کا جو خزانہ ہے اس کو صحت ابھى ابھى دے دے اس کا چہرہ جو چاند چہرہ ہے اس کى
کوئی بھی اچھا نہیں لگتا سماں اس دہر میں جب نہ ہو چہرہ تیرا جلوه کناں اس دہر میں اے خدا مجھ کو عطا کر وه دل بریان عشق جس سے ہوں پیدا نئے لاکھوں
ملک میں مزدور جیسا دربدر کوئی نہیں جس نے سب کے گھر بنائے اس کا گھر کوئی نہیں اک تمہیں چاہا تھا میں نے تم تو رخصت ہوگئے اب تمہارے بعد تم سا ہم سفر
کرونا نے سارے جہاں کو ہلایا جو سوئے ہوئے تھے انہیں بھی جگایا بھولے ہوئے تھے جو اپنے خدا کو انہیں بھی ہے اپنا خدا یاد آیا دعاؤں سے صدقہ سے اور نیکیوں سے ہر
خدا میرا سہارا ہے بھلا پھر بھی میں کافر ہوں محمد میرا آقا ہے بھلا پھر بھی میں کافر ہوں مرا ختم نبوت پہ بڑا واضح عقیدہ ہے وہ سب نبیوں سے اعلیٰ ہے، بھلا