• 3 نومبر, 2026
  1. Home
  2. نظم

Category: نظم

اے مردِ مجاہد اشک بہا

اے مردِ مجاہد اشک بہا

اے مرد مجاہد اشک بہا ہر مرض و بلا سے جان چھڑا یہ دنیا تو سب فانی ہے یہ دولت آنی جانی ہے سب ہمت طاقت زبانی ہے تو مانگ فقط رب کی رضا اے

کرونا سے نجات

کرونا سے نجات

دنیا میں نذیر آیا دنیا نے نہ پہچانا اور اس کا ہر اک دعویٰ بس جھوٹ ہی گردانا کچھ لوگ خدا والے جب ساتھ ہوئے اس کے تو قادرِ مطلق نے ان سب کو سوا

رمضان کے دن ہیں

رمضان کے دن ہیں

ایسے نو آموز شعراء کا کلام جنہوں نے روزنامہ الفضل آن لائن لندن کے حُسن میں اضافہ کے لئے اپنے قلم کو حرکت دی آؤ کہ مسکرائیں مسکان کے دن ہیں شکر خدا منائیں شکران

لطف کر بخش دے خطاؤں کو

لطف کر بخش دے خطاؤں کو

لطف کر بخش دے خطاؤں کو دور کر دے سبھی بلاؤں کو ہر طرف موت کی تمازت ہے اک اشارہ ہو نم ہواؤں کو ہیں سزاوار تیری رحمت کے روک دے قہر کی گھٹاؤں کو

’’دیوانوں کی فہرست میں اک نام بڑھا دے‘‘

’’دیوانوں کی فہرست میں اک نام بڑھا دے‘‘

جو ڈھانپ لے عصیاں کو مرے عیب چھپا دے رحمت کی خدایا مجھے اک ایسی عبا دے دیوانہ ہوا جاتا ہوں میں جذبِ جنوں میں ’’دیوانوں کی فہرست میں اک نام بڑھا دے‘‘ دربارِ خلافت

فضائل قرآن مجید

فضائل قرآن مجید

جمال و حسنِ قرآں نورِ جانِ ہر مسلمان ہے قمر ہے چاند اَوروں کا ہمارا چاند قرآں ہے نظیر اس کی نہیں جمتی نظر میں فکر کر دیکھا بھلا کیونکر نہ ہو یکتا کلامِ پاک

محمود کی آمین

محمود کی آمین

تو نے یہ دن دکھایا محمود پڑھ کے آیا دل دیکھ کر یہ احساں تیری ثنائیں گایا صد شکر ہے خدایا صد شکر ہے خدایا یہ روز کر مبارک سُبْحَانَ مَنْ یَّرَانِیْ تونے سکھایا فرقاں

قرآن ہی دوا ہے

قرآن ہی دوا ہے

گناہ گاروں کے دردِ دل کی بس اک قرآن ہی دوا ہے یہی ہے خضرِ رہِ طریقت یہی ہے ساغر جو حق نما ہے ہر اک مخالف کےزور و طاقت کو توڑنے کا یہی ہے

رکھ یقیں خدا پہ

رکھ یقیں خدا پہ

دل لگ نہیں رہا ہے گزارا تو کیجئےاپنا نہیں خیال ہمارا تو کیجئے بندش یہ عارضی ہے دنیا یہیں رہے گیکچھ دن ذرہ سا اس سے کنارہ تو کیجئے دل دکھ رہاہے دیکھ کے حالات

لمحات محبت ہوں شفا سوز نہاں میں

لمحات محبت ہوں شفا سوز نہاں میں

رمضان کی عظمت کو کروں کیسے بیاں میں طاقت یہ کہاں میرے تصور میں گماں میں رحمت کا ہے غفراں کا ہے بخشش کا مہینہ مولیٰ تو اثر رکھ دے مری آہ و فغاں میں