• 3 نومبر, 2026
  1. Home
  2. نظم

Category: نظم

ہر بندے کی ہو اپنے مالک سے شناسائی

ہر بندے کی ہو اپنے مالک سے شناسائی

جب چاند نے کی پیاسی آنکھوں کی پذیرائی تب ربّ سے مِلانے کی رُت دوڑی چلی آئی چمکے گی زمینِ دِل رنگ نُور کی بارش سے اِک حُسنِ مجسم کی جوبن پہ ہے زیبائی خوشبو

وہ جب بھی نظر آئے ہمیں جلسہ نظر آئے (جلسہ سالانہ یوکے کے التوا پر)

وہ جب بھی نظر آئے ہمیں جلسہ نظر آئے (جلسہ سالانہ یوکے کے التوا پر)

منبر پر کھڑا ہو کہ وہ بیٹھا نظر آئے ہر حال میں اک چاند چمکتا نظر آئے اک بار جو دیکھے وہ محبت کی نظر سے ماحول پر اک نور برستا نظر آئے ہم اپنی

رمضان کا چاند دیکھ کر

رمضان کا چاند دیکھ کر

آج وہ روز سعید ہے کہ نہیں جس کی مثال افق مغرب پہ نظر آیا ہے رمضان کا ہلال یہ وہ ماہ ہے کہ ہوا اس میں نزول قرآن جس میں جلوہ فگن اس ذات

نیکیوں کا بیج بونا چاہئے اس ماہ میں

نیکیوں کا بیج بونا چاہئے اس ماہ میں

اپنے باطن میں ذرا سا جھانکئے اس ماہ میں ہو رہے ہیں نفس کے یوں تزکیے اس ماہ میں پیارے آقا کی نصیحت یاد رکھنا یہ سدا نیکیوں کا بیج بونا چاہئے اس ماہ میں

نعتِ رسولِ مقبول ﷺ

نعتِ رسولِ مقبول ﷺ

محبوب ہر نظر میں الفت کے ہر سفر میں سب مومنینِ عالَم اُن کے ہی ہیں اثر میں اُن پر درود پڑھتے قرآن کے ہیں پارے نام اُن کا ہے محمدؐ وہ پیشوا ہمارے اُن

قرآن کی برکات

قرآن کی برکات

خدائے پاک رحماں کا یہ ہم پہ کتنا احساں ہے عطا کی ہم کو وہ تعلیم جس کا نام قرآں ہے ہماری ظلمتوں کو دور کرتا ہے وہ نور حق کرے جو جان و دل

چٹھی میرے حضور کی

چٹھی میرے حضور کی

بسمل کو شب کا روگ تڑپ صبح نور کی غالب نے کوئی بات یہاں پر ضرور کی مانا سبھی کا ذوقِ نظر ہے جدا جدا پھر بھی چلو کہ سیر کریں کوہ طور کی فردا

مرا یہ پیار سچا ہے

مرا یہ پیار سچا ہے

یہی سیکھا فقط ہم نے ترا دربار سچا ہے ترا ہر لفظ پاکیزہ مری سرکار (ﷺ) سچا ہے عدو بھی ہے کرے تیری ہی جے جے کار سچا ہے قسم لے لو محبت کی مرا

روحانی غذاؤں کا مہینہ

روحانی غذاؤں کا مہینہ

بہت پیارا یہ روحانی غِذاؤں کا مہینہ ہے خدا کی رحمتِ باراں دُعاؤں کا مہینہ ہے یہ جسمانی اندھیروں کو مِٹانے کے لئے آیا عِبادت اور تِلاوت کی فضاؤں کا مہینہ ہے گناہوں سے کریں

قطعات

قطعات

کچھ سمجھ آتا نہیں یارو ہمیں کس قدر تکلیف دہ حالات ہیں لگتا ہے ناراض ہے ہم سے خدا تم بتاؤ کیا یہ سچی بات ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نمازیں پڑھو اور دعائیں کرو جھکو ہر گھڑی