خوشا نصیب کہ تم اِس جہاں میں آ بیٹھے ملیک کل کے مکاں و مکاں میں بیٹھے پڑے گی کیسے نہ تم پر نگاہِ بندہ نواز کہ اُس کے گھر میں ہی تم آشیاں بنا
تیز ہے قاتل مسلماں ہوشیار جاگ اے غافل مسلماں ہوشیار اپنے دشمن کی عبارت کو سمجھ کارٹونوں کی سیاست کو سمجھ یہ نہیں ہوتی صحافت جان لے دشمنوں کی کیا ہے نیت جان لے تذکرہ
شیطنت کے بت کدے پھر سے گرانے آگیا مرحبا یہ جام عرفاں پھر پلانے آگیا ذاتِ باری سے تری قربت بڑھانے آگیا طُور کی نورانیاں پھر سے دکھانے آگیا ماه ِرمضاں آ گیا ہے، ماہ
نئے اس چاند کی دیکھو دیؔا ہر چھب نرالی ہے نئی ہر شب جلالی تو نیا ہر دن جمالی ہے لبوں پر حمد اور ہر اک صحیفہ دل میں رکھ کر ہی درود و عشق
مُجھ کو مٹانا بس میں تُمہارے رہا نہیں مقتل حیاتِ عشق ہے مرگِ وفا نہیں جو رائیگاں گیا ہو کبھی بزمِ یار میں وہ اشک اپنی آنکھ سے اَب تک گِرا نہیں پہرے بٹھاؤ کِتنے
ہر حکم ترا صورت خورشید عَلَم ہے ہر بات تری لوح زمانہ پہ رقم ہے کوثر سے لب خامہ کو دھو لوں تو کروں ذکر حقّا کہ ترا ذکر ہی معراج قلم ہے ہستی کا
میرے آقا کو مولا شفا بخش دے عشق ہی بس دکھاتا ہے یہ معجزہ چوٹ اُن کو لگی درد مجھ کو ہوا کیسے زخمی کیا اس خبر نے مجھے میرا دل جانتا ہے یا میرا
بے تعداد احسانِ محمد، بے پایاں فیضانِ محمد رحمتِ حق قربانِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم از آدم تا حضرت عیسیٰ سب عالی رتبہ ہیں لیکن اور ہی کچھ ہے شانِ محمد صلی اللہ علیہ
دل میں اب تک غبار سا کچھ ہے آئینہ داغدار سا کچھ ہے ٹوٹ کر میں بکھر گیا ہوتا جانے کیا اعتبار سا کچھ ہے گو قیامت ابھی نہیں آئی ہر طرف انتشار سا کچھ
علاج دردِ دِل تُم ہو، ہمارے دِلرُبا تُم ہو تمہارا مُدَّعا ہم ہیں، ہمارا مُدَّعا تُم ہو مری خوشبو، مرا نغمہ، مرے دِل کی غذا تُم ہو مری لذَّت، مِری راحت، مری جَنَّت، شہا تُم