ہر ایک ہے ہراساں یہ دَور نکتہ چیں ہے ہر دل میں ہے تکدّر ، آلودہ ہر جبیں ہے ناپختہ ہر عمل ہے ، لرزیدہ ہر یقیں ہے وصلِ صنم کا خواہاں شاید کوئی نہیں
وہم میں تم ہو تم گمان میں ہو تم ہی تم بس مرے دھیان میں ہو میں ہی میں تھا مرا مگر اب تم میرے اور میرے درمیان میں ہو میرا دل دل ہو جس
کیسی یہ وبا آئی ہے ہر ملک کے اندر ہیں فکر میں سب مفلس و ذی شان و قلندر انسان گنہگار تھا آئی ہے وبا یہ طاعون کی طرح موت کو لائی ہے وبا یہ
تکبر سے نہیں ملتا وہ دلدار ملے جو خاک سے اس کو ملے یار کوئی اس پاک سے جو دل لگاوے کرے پاک آپ کو تب اس کو پاوے پسند آتی ہے اس کو خاکساری
اِس میں رب کا ہر کوئی فرمان ہے یہ ہی ہادی ہے یہی فُرقان ہے ہر مسلماں کا یہی ایمان ہے مومنوں کا رہنما قرآن ہے اہلِ دُنیا سے نہ رستہ پوچھئے خود بھٹکتے ہیں
میرے دل میں بسی، جسم و جاں میں بسی جس کے سینے سے لپٹا رہا رات دن میری خاطر وہ جاگی کئی رات دن ہے یہ خواہش کہ اس کے قدم چوم لوں ہے سراپا
تیری رحمت کا طلبگار بھی ہوں اور خطاؤں پر شرمسار بھی ہوں تجھ سے مانگوں بھی تو کس منہ سے کیا کروں میں کہ گنہ گار بھی ہوں سر کی نخوت سے پریشاں ہو کر
(روزنامہ الفضل لندن آن لائن کے ساتھ پہلی عید) مغرب سے طلوع ہوگیا ’’الفضْل‘‘ کا سورج یعنی میرے مولا کے نئے فضْل کاسورج باقی نہ رہی حَسرتِ دیدارکی ظلمت ’’الفضْل‘‘ ہے، عید ہے اور وصْل
وہ نہ گر ٹالتا بلاؤں کو چین آتا کہاں دعاؤں کو ایک نسخہ نہ بن سکا اب تک کون پوجے گا ان خداؤں کو دور شہروں سے روز بھاگے گا تو اگر دیکھ لے جو
لوٹا ہے پھر سے زندگی میں جو یہ ماہِ رمضان آیا ہے رضا سے تیری بڑھانے ہمارا یہ ایمان اے خُدا بن جا تو خُود ہی ہمارا آسرا اور آسمان تیری ہی عطائیں بانٹنے آیا